دو تلوار والا سپہ سالار اور گلابی جراب

 



اس کا اصل نام کچھ اور تھا لیکن مقامی لوگ ’’دو تلواروں والا‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ اپنے کمزور قبیلے میں بیس سال کا ایک اسطیری جنگجو جس نے بہادری سے جنگیں لڑ کر اپنے قبیلے کے تمام مقبوضہ علاقے آزاد کرا لئے تھے؛ اُس سے کسی نے پوچھا کہ زندگی میں کبھی اس نے شکست بھی  کھائی ہے؟ وہ ٹھنڈی سانس لیکر ہنس پڑا اور کچھ دیر سوچتا رہا۔ اور پھر اس نے بولنا شروع کیا کہ لڑکپن میں نے دشمنوں کے گھوڑوں کی آواز سنتے گزارا اور اس وقت دوسرے بچّے چھپ جاتے تھے مگر میں انہماک سے سپاہیوں کو لڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔ ایک جنگی جینئس جس کو تلوار کا ہر وار اس کے دماغ پہ نقش تھا اس نے کہا کہ ہر جنگجو کی آدھی توانائی ڈھال اُٹھانے اور اُس ڈھال سے دشمن کا وار روکنے میں ضائع ہوتی تھی لیکن میں نے دونوں ہاتھ کو یکساں استعمال کرنے کے لئے ایک نئی تکنیک آزمائی اور ڈھال رکھ کے دو تلواریں اُٹھا لیں اور اس طرح دشمن کا وار تلوار ہی پہ روکتا یا بجلی کی رفتار سے خود کو حرکت دیتے ہوئے بچا لیتا؛ اُس کے بعد دو تلواروں سے دشمن کو چیر کے رکھ دیتا۔ میرے جسم میں بجلی بھری ہوتی تھی اور پہلی ہی جنگ میں دشمن کو اُلٹ کے رکھ دیا تھا۔ میں لگاتار جنگیں لڑتا اور جیتتا رہا  اور اس طرح سے علاقے میں میری دہشت پھیل چکی تھی۔

اُنہی دنوں میری کی شادی کردی گئی۔ ہمارے قبیلے میں عورت سے نرمی سے پیش آنا سخت نا پسندید تھا؛ اس لحاظ سے میری بیوی کو تو مجھ سےاور بھی زیادہ ڈرنا چاہئے تھا۔ لیکن نہ جانے کیوں جب میں اُسے جھڑکتا تو اس وقت اس کی آنکھوں میں بغاوت نظر آتی۔ کچھہ دن گذرے کہ ہمارے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ کئی ماہ گزر گئے اور میں نے کبھی بھی اپنی بیٹی کو چھوا تک نہیں تھا؛ لیکن ایک شام جب میں تھکا ہارا سو رہا تھا تو اچانک ایک نامانوس لمس سے میری آنکھ کھلی۔ اس وقت اس نے میری ناک پکڑ ہوئی تھی۔ میں دشمن سجھ کہ ہڑبڑا کر اُٹھا لیکن بیٹی نے میری ناک نہ چھوڑی اور اُس نے اپنا منہ میرے منہ سے جوڑ لیا۔ اس چھوٹی سی گڑیا کہ منہ سے مجھے ایک عجیب سی دلفریب خوشبو آ رہے تھی او بیٹی کے اس طرح چھونے سے میں کانپ سا اُٹھا۔  اُس کی لمس میرے اندر ایک عجیب سی مسرت رگ وپے میں اُترتی جا رہی تھی۔ پہلی بار میرے پتھریلے دل میں ایک کونپل نمودار ہوئی۔ میں نے اس سکون میں ہڑبڑائے ہوئے بےخیالی سے اپنی انگلی بیٹی کے دو ننھے دانتوں پہ رکھہ دی اور پھرمیں چیخ اٹھا میں ایک ہارے ہوئے سپاہی کی طرح چپ رہا کیوںکہ میری بیٹی نے خود کو نظر انداز کئے جانے کا مجھہ سے بدلہ لے لیا تھا۔ اور پھر وہ میرے کان پکڑ کر بستر پہ کھڑی ہو گئی اور کافی دیر تک اپنے سنگدل باپ سے کھیل کر میرے دل کی پتھریلی زمین پہ اپنے پیار کا بیج بو ڈالا۔ اسی طرح کھیلتے ہوئے اُسے بھوک لگی اور اس گڈی نے ساتھ ہی طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیں؛ میں اس کو لبھانے کی کوشش کی تو روتی ہوئی غضبناک گڑیا نے پے در پے مجھ کئی تھپڑ رسید کئے اور میں ایک عظیم سپہ سالار پٹتا رہا۔ اس وقت میری ذہین بیوی یہ بوجھہ چکی تھی کہ پتھر میں چوٹ لگ گئی ہے اور اس کے حساب بےباک کرنے کا وقت آگیا تھا۔ کچھ دنوں بعد میں نے اپنے قبائلی مہمانوں کے سامنے اپنی بیوی کو سختی سے ڈانٹا۔  وہ تو اس انتظار میں تھی؛ اور بپھر کر چیخی  اور کہا اے دو تلواروں والے میں تیری کوئی باندی تو نہیں؛ جا کسی اور سے شادی کرلے۔ اس طرح میری بیوی نے بیٹی اٹھائی اور باہر کی طرف  چل پڑی۔ اس وقت سب لوگ کانپ اُٹھے کہ خطے کے سب سے بڑے جنگجو کی شان میں گستاخی! اور بےیقینی سے بھرپور سب کی نگاہیں میری طرف مرکوز تھیں۔ میں بھی اس وقت سکتے میں پڑ گیا اور پھر تلوار کھینچ کر ننگے پائوں وہ اپنی بیوی کی طرف بھاگا۔ لیکن میری بیوی بےخوفی سے چلتی ہوئی حویلی سے باہر نکل رہی تھی اور اس سے چمٹی ہوئی بیٹی پیچھے منہ کرکے مجھے لپکتا دیکھ رہی تھی۔ جب میں اپنی بیوی کے قریب پہنچا تو مجھے  ٹھوکر لگی اور میں گرتے گرتے بچا۔ یہ دیکھ کر ننھی سی گڑیا مجھ پہ پہ قہقہہ لگا کر ہنسے لگی؛ وہ سمجھی  کہ میں اُس کو ہنسانے کے لئے ہہ کرتب کر رہا ہوں۔ بیٹی کو اس طرح ہنستے دیکھ کر میرے دماغ میں اُبلتے آتش فشاں پر کچھ شبنم برسی۔

پہلے مجھے خیال آیا کہ آیا کہ اگر میں نے اپنی بیوی کو مار دیا تو میری گڑیا روپڑے گی اور خون اُگلتی ماں سے الگ کر کہ میں کیسے اسے چپ کرا سکوں گا! اسی دوران مجھے یاد آیا کہ اُس ننھی سی پری کو جب بھوک لگی تھی تو کیسے اُس نے آنکھیں پھیر کر مجھے پیٹا اور لپک کراپنی ماں کی طرف دوڑ گئی تھی۔ میری بیوی تیز تیز قدموں سے چلتی چلی جا رہی تھی۔ میں حیرت سوچنے لگا کہ میری بیوی کی یہ مجال کہ اس کمزور سی لڑکی کی آنکھ میں خوف ذرا برابر بھی خوف نہیں۔ مجھے اُس وقت یہ بھی حیرت ہوئی کہ میرے جیسے ذہین سپہ سالار کے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں تھا جس سے میں بیٹی کو تکلیف دیے بغیر اپنی بیوی کو اس سے جدا کر سکتا- پھر میں نے سوچا کہ جب بیٹی بڑی ہو جائے گی تو میں اس کو اپنے ساتھ ملا کر اپنی بیوی کو سزا دوں گا۔ لیکن اس دوران  مجھے یاد آیا کہ جب اُس کی بیٹی کو بھوک لگی تھی تو کیسے مجھے تھپڑ رسید کر کے اپنی ماں کی طرف بھاگ گئی تھی۔ اور یہ ترکیب بھی مجھے بے سود لگی کیوں کہ میں سوچنے لگا کہ بیٹیاں تو اپنی ماں کی ہی ہوتی ہیں۔ اور ہر وقت تو وہ اپنی ماں کے ساتھہ ہو گی اور اُس بات سے مجھے یہ بھی سمجھ آگئی تھی کہ اگر میری بیوی چاہے تو وہ بیٹی کو میرے خلاف گمراہ کر کہ مجھہ سے دور سکتی ہے۔  یہ وہ وقت تھا جب میں زندگی میں پہلی بار ہتھیار ڈالنے پر مجبور تھا اور پہلی بار میں نے سوچا کہ ہر جنگ جیتنے کے لئے نہیں ہوتی۔ ٹھنڈی زمین پہ چلتے چلتے میرے ننگے پائوں برف بن چکے تھے۔ میں نے بیوی کو آواز دے کر کہا کہ آگے جانا خطرناک ہے۔ بیوی نے میری شکست خوردہ آواز سنی۔ وہ اپنی مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی۔ پھر اُس نے مجھے ننگے پائوں دیکھا تو اپنی گلابی جراب اتار کے مجھے پہننے کو دی۔

بستی والوں کو یقین تھا کہ ان کا دو تلواروں والا سپہ سالار اپنی بیوی کا سر ہی لے کر آئے گا کیوں کہ وہ ہمیشہ دشمن کا سر لاتا تھا۔ لیکن ان کو حیرت ہوئی جب انہوں نے میرے ایک ہاتھ میں بیٹی اور دوسرے میں کچھ جنگلی پھول دیکھے۔ میں نے بستی والوں کو اپنی طرف گھورتے دیکھا تو پریشانی کے عالم میں رک گیا لیکن یکایک مجھے طیش آیا اور دونوں تلواریں پھینک کر میں نے بستی والوں کو کہا: بستی والو! جائو نیا سالار چن لو، میں ایک بیٹی کا باپ ہوں اور بیٹیوں کے باپ زیادہ دیر نہیں لڑ سکتے۔ اسی دوران ایک نوجوان نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ اے دو تلواروں والے سپہ سالار آپ نے گلابی جراب پہنی ہوئی ہیں ’’گلابی جراب؟‘‘  میں نے کھسیا کر اپنے پائوں کی طرف دیکھا اور پھر ایک طویل سانس لے بولا: مرد نے گلابی جراب تو اس دن ہی پہن لی تھی، جب پہلی عورت پیدا ہوئی تھی۔


Post a Comment

0 Comments